سال 2026 میں پاکستان میں سوشل میڈیا پر یہ خبریں تیزی سے پھیلیں کہ حکومت نے ایک گھر میں دو بجلی کے میٹر لگانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ان خبروں کی وجہ سے بہت سے گھرانوں میں تشویش پیدا ہو گئی، خاص طور پر وہ لوگ جو پہلے سے اضافی میٹر استعمال کر رہے تھے یا نیا میٹر لگوانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ کچھ افراد کو خدشہ تھا کہ ان کا دوسرا کنکشن منقطع کر دیا جائے گا یا نئی درخواست مسترد ہو جائے گی۔
لیکن سرکاری وضاحت کے مطابق حقیقت ان افواہوں سے مختلف ہے۔

پاکستان میں بجلی سے متعلق قوانین اور پالیسیوں کی نگرانی Power Division کرتا ہے، جو Water and Power Development Authority (WAPDA) اور مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (DISCOs) کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ ان کمپنیوں میں Lahore Electric Supply Company (LESCO) اور Islamabad Electric Supply Company (IESCO) شامل ہیں، جو مختلف شہروں میں بجلی فراہم کرتی ہیں۔
افواہ کیسے پھیلی؟
آن لائن پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ:
- ایک گھر میں صرف ایک ہی بجلی کا میٹر رکھنے کی اجازت ہوگی۔
- اضافی میٹر ہٹا دیے جائیں گے۔
- دوسرے میٹر کی نئی درخواستیں قبول نہیں کی جائیں گی۔
یہ باتیں بغیر تصدیق کے پھیلائی گئیں جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہوئی۔ بعد ازاں پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ کسی مکمل پابندی کا نفاذ نہیں کیا گیا۔ حکام نے تصدیق کی کہ ملک بھر میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں ہوا جو ایک سے زائد میٹر رکھنے سے روکے۔
ساتھ ہی یہ بھی خبردار کیا گیا کہ غلط یا گمراہ کن معلومات پھیلانا الیکٹرانک کرائم قوانین کے تحت قابلِ سزا ہو سکتا ہے۔
2026 میں اصل قانون کیا ہے؟
کسی ایک جائیداد پر ایک سے زائد میٹر لگانے پر مکمل پابندی موجود نہیں ہے۔ تاہم اضافی میٹر کی منظوری مخصوص شرائط پوری کرنے سے مشروط ہے۔
دوسرا میٹر اسی صورت میں منظور ہو سکتا ہے جب جائیداد میں واقعی الگ اور خودمختار رہائشی حصے موجود ہوں۔ اس کا مقصد سبسڈی کے نظام کو منصفانہ بنانا اور ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکنا ہے۔
دوسرے میٹر کے لیے ضروری شرائط
اضافی میٹر حاصل کرنے کے لیے عام طور پر درج ذیل شرائط پوری کرنا ضروری ہے:
1. علیحدہ رہائشی حصہ
گھر میں واضح طور پر الگ یونٹ، فلیٹ یا منزل موجود ہو جو ایک مستقل گھرانے کے طور پر استعمال ہو رہا ہو۔
2. الگ داخلی و خارجی راستہ
ہر حصے کا اپنا علیحدہ دروازہ اور راستہ ہونا چاہیے۔ مشترکہ داخلی راستہ درخواست مسترد ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔
3. علیحدہ کچن
دوسرے حصے میں اپنا الگ کچن ہونا ضروری ہے۔ مشترکہ کچن کی صورت میں عام طور پر منظوری نہیں دی جاتی۔
4. علیحدہ وائرنگ سسٹم
ہر میٹر کی بجلی کی وائرنگ مکمل طور پر الگ ہونی چاہیے تاکہ ہر یونٹ کی بجلی الگ الگ ریکارڈ ہو سکے۔
اگر یہ تمام شرائط پوری ہوں تو متعلقہ ڈسکو میں درخواست جمع کروائی جا سکتی ہے۔
درکار دستاویزات
عام طور پر درج ذیل کاغذات طلب کیے جاتے ہیں:
- شناختی کارڈ کی کاپی
- ملکیت یا کرایہ داری کا ثبوت
- علیحدہ رہائش کا حلف نامہ
- بلڈنگ لے آؤٹ (اگر ضروری ہو)
درخواست جمع ہونے کے بعد متعلقہ بجلی کمپنی معائنہ کرتی ہے اور تصدیق کے بعد فیصلہ جاری کرتی ہے۔
ان قواعد پر زور کیوں دیا گیا؟
پاکستان میں بجلی کے نرخ مختلف سلیبز میں تقسیم ہیں، جہاں کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کو سبسڈی ملتی ہے۔ کچھ افراد نے ایک ہی گھر میں کئی میٹر لگا کر بجلی کے استعمال کو تقسیم کیا تاکہ ہر میٹر کم یونٹس دکھائے اور سبسڈی کا فائدہ حاصل کیا جا سکے۔
اس طریقے سے حکومتی وسائل پر بوجھ پڑتا ہے اور اصل مستحقین متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکومت نے واضح شرائط مقرر کیں تاکہ نظام کا غلط استعمال نہ ہو سکے۔
کیا 2026 میں دوسرا میٹر لگوانا ممکن ہے؟
جی ہاں۔ اگر آپ کی جائیداد واقعی علیحدہ رہائشی حصوں پر مشتمل ہے اور تمام قانونی تقاضے پورے کرتی ہے تو اضافی میٹر کے لیے درخواست دی جا سکتی ہے۔
درخواست مسترد ہو سکتی ہے اگر:
- علیحدگی حقیقی نہ ہو
- دستاویزات نامکمل ہوں
- معائنہ رپورٹ درخواست سے مطابقت نہ رکھتی ہو
اگر تمام شرائط پوری ہوں تو الگ الگ میٹر اور علیحدہ بلنگ کی اجازت برقرار ہے
اہم نکات
- ایک گھر میں دو میٹر رکھنے پر کوئی مکمل پابندی نہیں۔
- اضافی میٹر صرف حقیقی علیحدہ حصے کی صورت میں منظور ہوتا ہے۔
- پالیسی کا مقصد سبسڈی کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
- غلط معلومات پھیلانا قانونی مسئلہ بن سکتا ہے۔
نتیجہ
2026 کی وضاحت کے مطابق پاکستان میں گھرانوں کو ایک سے زائد بجلی کے میٹر رکھنے کی اجازت ہے، بشرطیکہ جائیداد میں واقعی الگ رہائشی یونٹس موجود ہوں اور تمام قانونی شرائط پوری کی جائیں۔
اگر آپ دوسرا میٹر لگوانا چاہتے ہیں تو یقینی بنائیں کہ آپ کے گھر میں الگ حصہ، دروازہ، کچن اور وائرنگ موجود ہو۔ تمام ضروری دستاویزات مکمل کریں اور معائنے کے عمل میں تعاون کریں۔ قانون کے مطابق درخواست دینے سے منصفانہ بلنگ ممکن ہوتی ہے اور سبسڈی کا نظام بھی محفوظ رہتا ہے۔


