پاکستان میں سولر توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باضابطہ طور پر نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کرتے ہوئے اسے نیٹ بلنگ نظام سے تبدیل کر دیا ہے، جو کہ نئے NEPRA (Prosumer) Regulations 2026 کے تحت نافذ العمل ہو چکا ہے۔

پاکستان میں سولر توانائی کے شعبے میں ایک بڑی پالیسی تبدیلی سامنے آ گئی ہے۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باضابطہ طور پر نیٹ میٹرنگ سسٹم ختم کرتے ہوئے اسے نیٹ بلنگ نظام سے تبدیل کر دیا ہے، جو کہ نئے NEPRA (Prosumer) Regulations 2026 کے تحت نافذ العمل ہو چکا ہے۔
یہ اقدام 2015 سے نافذ نیٹ میٹرنگ فریم ورک کے خاتمے کی علامت ہے اور اس سے گھریلو، تجارتی اور صنعتی سطح پر سولر بجلی پیدا کرنے والوں کے لیے ادائیگی کا پورا نظام تبدیل ہو گیا ہے۔
سولر بجلی کی خریداری کی قیمت 11 روپے فی یونٹ متوقع
اس وقت نیٹ میٹرنگ کے تحت سولر صارفین کو تقریباً 25.9 روپے فی یونٹ کا فائدہ حاصل تھا، کیونکہ بجلی یونٹس کا ایک کے بدلے ایک تبادلہ ہوتا تھا۔ تاہم، نئے نیٹ بلنگ سسٹم کے تحت اضافی سولر بجلی کو قومی اوسط توانائی خریداری قیمت پر خریدا جائے گا، جو کہ مشاورت کے دوران 11 روپے فی یونٹ تجویز کی گئی ہے۔
اگرچہ یہ نئی قیمت تاحال باضابطہ طور پر نوٹیفائی نہیں کی گئی، تاہم اسٹیک ہولڈرز کے مطابق یہی شرح نافذ کیے جانے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، صارفین کو گرڈ سے لی جانے والی بجلی پر عام صارف ٹیرف ادا کرنا ہوگا، جو بعض علاقوں میں 50 روپے فی یونٹ تک ہو سکتا ہے۔
کنٹریکٹ کی مدت 7 سال سے کم کر کے 5 سال
نئے ضوابط کے تحت سولر صارفین کے معاہدوں کی مدت بھی کم کر دی گئی ہے:
- پرانا کنٹریکٹ: 7 سال
- نیا کنٹریکٹ: 5 سال
موجودہ صارفین اپنے موجودہ معاہدوں کی مدت پوری ہونے تک پرانے نظام کے تحت رہیں گے، تاہم معاہدہ ختم ہونے کے بعد ڈسکوز کو اختیار ہوگا کہ وہ صارف کو نئے نظام میں منتقل کریں یا کنٹریکٹ ختم کر دیں۔
آئی پی پیز کی کیپیسٹی ادائیگی کا بوجھ سولر صارفین پر
ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے ذریعے آئی پی پیز (IPP’s) کی کیپیسٹی ادائیگیوں کا کچھ بوجھ اب سولر صارفین پر منتقل ہو رہا ہے۔ نیٹ یونٹس کے تبادلے کے خاتمے کے بعد صارفین کو گرڈ سے لی گئی اور فراہم کی گئی بجلی کے درمیان خالص فرق کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
اس فیصلے پر توانائی ماہرین اور سولر انڈسٹری کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ سیاسی ردعمل کا بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
نئی پالیسی کا دائرہ کار
NEPRA Prosumer Regulations 2026 کے تحت:
- سولر، ونڈ اور بایو گیس سسٹمز شامل ہوں گے
- زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت 1 میگاواٹ مقرر کی گئی ہے
- سسٹم کا سائز صارف کے منظور شدہ لوڈ سے زیادہ نہیں ہو سکتا
- اگر کسی ٹرانسفارمر پر پیداوار 80 فیصد تک پہنچ جائے تو نئے کنکشن کی اجازت نہیں ہوگی
250 کلوواٹ یا اس سے بڑے سسٹمز کے لیے لوڈ فلو اسٹڈی لازمی قرار دی گئی ہے۔
درخواست اور منظوری کا طریقہ کار
نیپرا نے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے لیے واضح ٹائم لائنز مقرر کی ہیں:
- درخواست وصولی کی تصدیق: 5 ورکنگ دن
- تکنیکی جانچ: 15 ورکنگ دن
- انٹرکنکشن انسٹالیشن: ادائیگی کے بعد 15 دن
اس کے علاوہ صارف کو نیپرا سے باضابطہ منظوری (Concurrence) حاصل کرنا ہوگی، جو نیپرا کے مطابق 7 دن میں جاری کی جائے گی۔
تمام میٹرز، اپ گریڈز اور گرڈ سے متعلق اخراجات صارف خود برداشت کرے گا، جبکہ 1,000 روپے فی کلوواٹ ناقابل واپسی فیس بھی مقرر کی گئی ہے۔
نیپرا کو وسیع اختیارات حاصل
نئے ضوابط کے تحت نیپرا کو یہ اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ:
- خریداری کی قیمتوں میں دورانِ معاہدہ تبدیلی کرے
- پابند احکامات جاری کرے
- آپریشنل ڈیٹا طلب کرے
- جرمانے عائد کرے
- ضرورت پڑنے پر قوانین میں نرمی یا ترمیم کرے
ڈسکوز کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ خرابی، خلاف ورزی یا مینٹیننس کی صورت میں بغیر نوٹس سسٹم منقطع کر سکیں۔
سولر پالیسی میں ایک بڑا یوٹرن
نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ کی جانب منتقلی پاکستان کی قابلِ تجدید توانائی پالیسی میں ایک بڑا یوٹرن تصور کی جا رہی ہے۔ جہاں نیپرا اس اقدام کو گرڈ کے استحکام اور مالی نظم و ضبط کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے، وہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے چھوٹے سولر صارفین کے لیے فائدہ کم ہو جائے گا۔
توانائی ماہرین کے مطابق مستقبل میں سولر صارفین کو دن کے وقت زیادہ بجلی خود استعمال کرنے پر توجہ دینا ہوگی، کیونکہ اضافی بجلی گرڈ میں دینا اب زیادہ منافع بخش نہیں رہا۔




